اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سوات کے چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والی 17 سالہ طاہرہ نے خواتین کے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں اور مظالم کی تفصیلات کا ڈیٹا محفوظ بنانے والے سافٹ ویئر سمیت لوکل حکومت کو معاونت فراہم کرنے والا خصوصی سافٹ ویئر تیار کیا، جس کے باعث انہیں اعزازات سے نوازا جا رہا ہے۔
ٹیک جوس ٹیکنالوجی کے ادارے کی جانب سے شائع کردہ 25 سال سے کم عمر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین اور سماجی خدمات سر انجام دینے والے 255 نوجوانوں کی فہرست میں طاہرہ محمد کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔
اس فہرست میں اور بھی کئی کم عمر لڑکیاں اور لڑکے ہیں، جنہوں نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے مختلف خدمات سر انجام دی ہیں۔
طاہرہ محمد کو کم سہولیات، مشکل حالات کا سامنا کرنے اور جدید ترین طرز کے 2 سافٹ ویئر تیار کرنے کی بناء پر اس فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔
طاہرہ محمد بچپن میں ہی والد کے سائے سے محروم ہو گئیں، غربت کے باعث والدہ کے ہمراہ طاہرہ نے مختلف گھروں میں ملازمت کی۔
طاہرہ کو شروع سے ہی پڑھنے کا شوق تھا، اور خوش قسمتی سے انہیں اچھے مالکان ملے، جس وجہ سے انہوں نے طاہرہ کی خواہش کو دیکھتے ہوئے انہیں اسکول میں داخل کروادیا۔
دوران تعلیم انہوں نے گھریلو ملازمت کے بجائے اسکول میں پڑھانا بھی شروع کیا، اور ساتھ ہی ٹیکنالوجی کے حوالے سے کام بھی کرتی رہیں۔
کئی کوششوں کے بعد بالآخر وہ 2 سافٹ ویئر تیار بنانے میں کامیاب ہوئیں۔
طاہرہ کی جانب سے لوکل حکومت کی معاونت کے لیے تیار کردہ سافٹ ویئر پیدائشی و فوتگی سرٹیفکیٹ سمیت رہائشی اور شادی وغیرہ کے سرٹیفکیٹ بنانے سمیت ریکارڈ محفوظ کرنے کی بھی اہلیت رکھتا ہے۔
ایک ہی کلک پر طاہرہ محمد کے تیار کردہ سافٹ ویئرز میں محفوظ ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
واضح رہے عارفہ کریم بھی پاکستان کا کم عمر سرمایہ تھیں جنہوں نے کمسنی میں ہی مایئکرو سرٹیفکشن حاصل کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲